1 دسمبر 2010 - 20:30

وکی لیکس کی جاری کردہ ایک خفیہ دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نواز شریف کو سعودی عرب میں جلاوطنی کے دوران وعدے توڑنے کی وجہ سے کچھ عرصہ نظر بندی سے ذرا بہتر حالت میں رکھا گیا۔

ابنا: امریکا میں سعودی عرب کے سفیر عادل الزبیر نے بیس نومبر دو ہزار سات کو ریاض آمد کے موقع پر امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور اور دیگر حکام سے ظہرانے پر ملاقات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے سعودی حکومت سے کئے گئے وعدے توڑے جس پر انہیں سخت مایوسی ہوئی ہے۔ سعودی حکومت نے انہیں لندن جانے کی اجازت دی لیکن وہ لندن سے پاکستان چلے گئے جہاں سے انہیں واپس سعودی عرب بھیج دیا گیا تھا۔ سعودی سفیر عادل ال زبیر نے واضح کیا کہ سعودی حکومت مستقبل میں نواز شریف کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرے گی اور انہیں اس طرح رکھا جائے گا جو نظر بندی سے تھوڑا بہتر ہوگا۔ عادل الزبیر نے کہا کہ ان کے خیال میں نواز شریف یا بےنظیر بھٹو پرویز مشرف کا بہتر متبادل نہیں ہیں اور اپنی تمام تر خامیوں کے ساتھ پرویز مشرف وہ واحد شخص ہیں جس کے ساتھ امریکا اور سعودی عرب مل کر کام کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف فاٹا میں عسکریت پسندی کو کنٹرول کرنے کے قابل نہیں ہیں جبکہ بے نظیر بھٹو ملک پر حکومت کرنے کے لئے کافی متنازعہ شخصیت ثابت ہونگی۔ واشنگٹن بھیجے گئے مراسلے میں امریکی حکام نے رائے دی ہے کہ نواز شریف پر سعودی حکومت کا کافی اقتصادی کنٹرول ہے۔ مبینہ طور پر نواز شریف پہلے غیر سعودی باشندے ہیں جنہیں سعودی حکومت نے جلاوطنی کے دوران سعودی عرب میں کاروبار کرنے کیلئے خصوصی قرضہ دیا۔.........

/110